اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 64

کا اقرار نہ کرو گے میں تمہارا امام جماعت نہیں بنوں گا۔اس پر ان لوگوں نے اس امر کا وعدہ کیا کہ وہ آئندہ پوری طرح اطاعت کریں گے اور ان کے احکام کو قبول کریں گے تب حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ان کو نماز پڑھائی۔اسی طرح حضرت ابو موسیٰ نے ان کو کہا کہ سنو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو کوئی ایسے وقت میں کہ لوگ ایک امام کے ماتحت ہوں ان میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور ان کی جماعت کو پراگندہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جاوے اسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۔(مسلم کتاب الامارة باب حكم من فرق المسلمين وهو مجتمع ) اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے ساتھ اس کے عادل ہونے کی شرط نہیں لگائی یعنی تم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت عثمان عادل نہیں۔کیونکہ اگر یہ مان لیا جاوے تو بھی تمہارا یہ فعل جائز نہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عادل کی شرط نہیں لگائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ لوگوں پر کوئی حاکم ہو۔یہ خیالات ہیں ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمریں خدمت اسلام کے لئے خرچ کر دی تھیں اور جنہوں نے اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنا تھا اور آپ کے سامنے ان پر عمل کر کے سند قبولیت حاصل کی تھی۔وہ لوگ ان مفسدوں کے پیچھے نماز پڑھنا تو الگ رہا ان کا امام بننا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو واجب القتل جانتے تھے۔کیا ان لوگوں کی نسبت کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ فتنہ عثمان میں شامل تھے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان اور ان کے عمال حقوق رعایا کو تلف کرتے تھے یا ان واقعات کی موجودگی میں قبول کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کی خاطر یہ مفسد فساد برپا کر رہے تھے۔نہیں بلکہ یہ فسادی جماعت صحابہ پر حسد کر کے فساد پر آمادہ تھے اور اپنے دلی خیالات کو چھپاتے 64