اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 65
تھے حکومت اسلام کی بربادی ان کا اصل مقصد تھا۔اور یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جب تک حضرت عثمان کو درمیان سے نہ ہٹایا جاوے۔بعض جاہل یا بے دین مسلمان بھی ان کے اس فریب کو نہ سمجھ کر خود غرضی یا سادگی کے باعث ان کے ساتھ مل گئے تھے۔مفسدوں کی ایک اور سازش حضرت ابوموسیٰ اشعری کے والی مقرر ہو جانے پر ان لوگوں کے لئے فتنہ برپا کرنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی تھی لیکن اس فتنہ کے اصل محرک اس امر کو پسند نہ کر سکتے تھے کہ ان کی تمام کوششیں اس طرح برباد ہو جاویں۔چنانچہ خط و کتابت شروع ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ سب ملکوں کی طرف سے کچھ لوگ وفد کے طور پر مدینہ منورہ کو چلیں۔وہاں آپس میں آئندہ طریق عمل کے متعلق مشورہ بھی کیا جاوے اور حضرت عثمان سے بعض سوال کئے جاویں تا کہ وہ باتیں تمام اقطار عالم میں پھیل جاویں اور لوگوں کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان پر جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ پایہ ثبوت کو پہنچا دیئے گئے ہیں۔یہ مشورہ کر کے یہ لوگ گھروں سے نکلے اور مدینے کی طرف سب نے رخ کیا۔جب مدینہ کے قریب پہنچے تو حضرت عثمان کو ان کی آمد کا علم ہوا۔آپ نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ ان کا بھید لیں اور ان کی آمد کی اصل غرض دریافت کر کے اطلاع دیں۔یہ دونوں گئے اور مدینہ سے باہر اس قافلہ سے جاملے ان لوگوں نے ان دونوں مخبروں سے باتوں باتوں میں اپنے حالات بیان کر دیئے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا اہل مدینہ میں سے بھی کوئی شخص ان کے ساتھ ہے جس پر ان مفسدوں کے گروہ نے کہا کہ وہاں تین شخص ہیں ان کے سوا کوئی چوتھا شخص ان کا ہمدرد نہیں۔ان دونوں نے دریافت کیا کہ پھر تمہارا کیا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا 65