اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 63

دینے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد کے پورا کرنے کے لئے ان لوگوں کوکسی جرم کے ارتکاب سے اجتناب نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ لوگ اس بات کو محسوس کرنے لگ گئے تھے کہ اگر چندے اور دیر ہوئی تو امت اسلامیہ پوری طرح ہمارے فتنہ کی اہمیت سے آگاہ ہو جاوے گی۔اس لئے وہ جس طرح بھی ہو اپنے مدعا کو جلد سے جلد پورا کرنے کی فکر میں تھے۔مگر حضرت عثمان نے اپنی دانائی سے ایک دفعہ پھر ان کے عذرات کو توڑ دیا اور ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کر کے فوراً ان لوگوں کو اطلاع دی۔سعید بن العاص کے واپس چلے جانے اور ان کے ارادوں سے اہل مدینہ کو اطلاع دے دینے سے ان کی امیدوں پر پہلے ہی پانی پھر چکا تھا اور یک دم مدینہ پر قبضہ کر لینے کے منصوبے جو سوچ رہے تھے باطل ہو چکے تھے اور یہ لوگ واپس ہونے پر مجبور ہو چکے تھے۔اب ابو موسیٰ اشعری کے والی مقرر ہونے پر ان کے عذرات بالکل ہی ٹوٹ گئے۔کیونکہ یہ لوگ ایک مدت سے ان کی ولایت کے طالب تھے۔ابو موسیٰ اشعری کو جب معلوم ہوا کہ ان کو کوفہ کا والی مقرر کیا گیا ہے تو انہوں نے سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو! ایسے کاموں کے لئے پھر کبھی نہ نکلنا اور جماعت اور اطاعت کو اختیار کرو اور صبر سے کام لو اور جلد بازی سے بچو۔کیونکہ اب تم میں ایک امیر موجود ہے یعنی میں امیر مقرر ہوا ہوں۔اس پر ان لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔اور فرما یا کہ نہیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔حاکم وقت کی اطاعت ضروری ہے۔جب تک تم لوگ حضرت عثمان کی کامل اطاعت اور ان کے احکام کے قبول کرنے 63