اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 48

ممالک کے حالات سے ناواقفیت کے بہت سے لوگ ان باتوں کو سچ یقین کر لیتے اور افسوس کرتے کہ فلاں فلاں ملک کے ہمارے بھائی سخت مصیبتوں میں مبتلاء ہیں اور ساتھ شکر بھی کرتے کہ خدا کے فضل سے ہمارا والی اچھا ہے ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔اور یہ نہ جانتے کہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنے آپ کو آرام میں اور ان کو دکھ میں سمجھتے اور اپنی حالت پر شکر اور ان کی حالت پر افسوس کرتے ہیں۔مدینہ کے لوگوں کو چونکہ چاروں اطراف سے خطوط آتے تھے۔ان میں سے جولوگ ان خطوط کو صحیح تسلیم کر لیتے وہ یہ خیال کر لیتے کہ شاید سب ممالک میں ظلم ہی ہورہا ہے اور مسلمانوں پر سخت مصائب ٹوٹ رہے ہیں غرض عبد اللہ بن سبا کا یہ فریب بہت کچھ کارگر ثابت ہوا۔اور اسے اس ذریعہ سے ہزاروں ایسے ہمدردل گئے جو بغیر اس تدبیر کے ملنے مشکل تھے۔جب یہ شورش حد سے بڑھنے لگی۔اور صحابہ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں تو انہوں نے مل کر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ جور پورٹیں مجھے آتی ہیں وہ تو خیر و عافیت ہی ظاہر کرتی ہیں۔صحابہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس اس مضمون کے خطوط باہر سے آتے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔حضرت عثمان نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیا کہ تحقیق کس طرح کی جاوے۔اور ان کے مشورہ کے مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف محمد بن مسلم کو کوفہ کی طرف عبد اللہ بن عمر" کو شام کی طرف عمار بن یاسر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کر کے رپورٹ کریں کہ آیا واقع میں امراء رعیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدی سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار لیتے ہیں۔اور ان چاروں 48