اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 49
کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی متفرق بلاد کی طرف بھیجے تا کہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں۔(طبری جلد نمبر ۶ صفحه ۲۹۴۳ مطبوعه بیروت) یہ لوگ گئے اور تحقیق کے بعد واپس آکر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے اور مسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور ان کے حقوق کو کوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں۔مگر عمار بن یاسر نے دیر کی اور ان کی کوئی خبر نہ آئی عمار بن یاسر نے کیوں دیر کی اس کا ذکر تو پھر کروں گا۔پہلے میں اس تحقیقی وفد اور اس کی تحقیق کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس وفد کے حالات کو اچھی طرح سمجھ لینے سے اس فتنہ کی اصل حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ اس وفد کے تینوں سر کردہ جو لوٹ کر آئے اور جنہوں نے آکر رپورٹ دی وہ کس پایہ کے آدمی تھے۔کیونکہ تحقیق کرنے والے آدمیوں کی حیثیت سے اس تحقیق کی حیثیت معلوم ہوتی ہے۔اگر اس وفد میں ایسے لوگ بھیجے جاتے جو عثمان یا آپ کے نواب سے کوئی غرض رکھتے یا جن کی دینی و دنیاوی حیثیت اس قدر اعلیٰ اور ارفع نہ ہوتی کہ وہ حکام سے خوف کھاویں یا کوئی طمع رکھیں تو کہا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ کسی لالچ یا خوف کے باعث حقیقت کے بیان کرنے سے اعراض کر گئے۔مگر ان لوگوں پر اس قسم کا اعتراض ہر گز نہیں پڑسکتا اور ان لوگوں کو اس کام کے لئے منتخب کر کے حضرت عثمان نے اپنی نیک نیتی کا ایک بین ثبوت دے دیا ہے۔اسامہ جن کو بصرہ کی طرف بھیجا گیا تھا وہ شخص ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ اول المؤمنین حضرت زید کے لڑکے ہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے مقربین اور پیاروں میں سے ہیں۔اور آپ ہی وہ شخص ہیں جن کو رسول کریم 49