اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 47

دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں گے اور تمہاری باتوں کو شوق سے سنا کریں گے اور تم پر اعتبار پیدا ہو جائے گا۔تب عمدگی سے ان کے سامنے اپنے خاص خیالات پیش کرو وہ بہت جلد قبول کر لیں گے۔اور یہ بھی احتیاط رکھو کہ پہلے حضرت عثمان کے خلاف باتیں نہ کرنا۔بلکہ ان کے نائبوں کے خلاف لوگوں کے جوش کو بھڑ کا نا۔اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ حضرت عثمان سے خاص مذہبی تعلق ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف باتیں سن کر بھڑک اٹھیں گے۔لیکن امراء کے خلاف باتیں سننے سے ان کے مذہبی احساسات کو تحریک نہ ہوگی اس لئے ان کو قبول کر لیں گے۔جب اس طرح ان کے دل سیاہ ہو جائیں گے اور ایک خاص پارٹی میں شمولیت کر لینے سے جو ضد پیدا ہو جاتی ہے وہ پیدا ہو جاوے گی۔تو پھر حضرت عثمان کے خلاف ان کو بھڑ کا نا بھی آسان ہوگا۔اس شخص نے جب یہ دیکھا کہ والیان صوبہ جات کی برائیاں جب کبھی بیان کی جاتی ہیں تو سمجھ دار لوگ ان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے مشاہدہ کی بناء پر ان شکایات کو جھوٹا اور بے حقیقت جانتے ہیں اور ملک میں عام جوش نہیں پھیلتا۔تو اس نے ایک اور خطر ناک تدبیر اختیار کی اور وہ یہ کہ اپنے نائبوں کو حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ ہر جگہ کے گورنروں کو انہی کے علاقوں میں بدنام کرنے کی کوشش کریں ان کی برائیاں لکھ کر دوسرے علاقوں میں بھیجیں۔کیونکہ دوسرے علاقوں کے لوگ اس جگہ کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کی باتوں کو آسانی سے قبول کر لیں گے۔چنانچہ اس مشورہ کے ماتحت ہر جگہ کے مفسد اپنے علاقوں کے حکام کی جھوٹی شکایات اور بناوٹی مظالم لکھ کر دوسرے علاقوں کے ہمدردوں کو بھیجتے اور وہ ان خطوں کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے اور بوجہ غیر 47