اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 42

ہوں تو ان لوگوں کو شام کی طرف جلاوطن کر دوں۔اور امیر معاویہ کے پاس بھیج دو۔ادھر امیر معاویہ کو لکھا کہ کچھ لوگ جو کھلے طور پر فساد پر آمادہ ہیں وہ آپ کے پاس کوفہ سے آدیں گے ان کے گزارہ کا انتظام کر دیں اور ان کی اصلاح کی تجویز کریں۔اگر درست ہو جاویں اور اصلاح کرلیں تو ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کے پچھلے قصورروں سے درگزر کرو اور اگر شرارت پر مصر رہیں تو پھر ان کو شرارت کی سزا دو۔حضرت عثمان کا یہ حکم نہایت دانائی پر مبنی تھا کیونکہ ان لوگوں کا کوفہ میں رہنا ایک طرف تو ان لوگوں کے جوشوں کو بھڑ کانے والا تھا جو اس کی شرارتوں پر پوری طرح آگاہ تھے اور خطرہ تھا کہ وہ جوش میں آکر ان کو تکلیف نہ پہنچا بیٹھیں اور دوسری طرف اس لحاظ سے بھی مضر تھا کہ وہ لوگ وہاں کے باشندے اور ایک حد تک صاحب رسوخ تھے۔اگر وہاں رہتے تو اور بہت سے لوگوں کو خراب کرنے کا موجب ہوتے۔مگر یہ حکم اس وقت جاری ہوا جب اس کا چنداں فائدہ نہ ہوسکتا تھا۔اگر ابن عامر والی بصرہ ابن السوداء کے متعلق بھی حضرت عثمان سے مشورہ طلب کرتا اور اس کے لئے بھی اسی قسم کا حکم جاری کیا جا تا تو شاید آئندہ حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہوتے۔مگر مسلمانوں کی حالت اس وقت اس بات کی مقتضی تھی کہ ایسی ہی قضاء وقدر جاری ہو اور وہی ہوا۔یہ لوگ جو جلا وطن کئے گئے اور جن کو ابن سبا کی مجلس کارکن کہنا چاہئے تعداد میں دس کے قریب تھے ( گو ان کی صحیح تعداد میں اختلاف ہے ) حضرت معاویہ نے ان کی اصلاح کے لئے پہلے تو یہ تدبیر کی کہ ان سے بہت اعزاز واحترام سے پیش آئے۔خودان کے ساتھ کھانا کھاتے اور اکثر فرصت کے وقت ان کے پاس جا کر بیٹھتے۔چند دن کے بعد انہوں 42