اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 120
اس نے ایک وار حضرت عثمان پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیں نکلی شاید بچ جاویں اسی وقت جب کہ زخموں کے صدموں سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدت درد سے تڑپ رہے تھے آپ کا گلا پکڑ کرگھونٹنا شروع کیا اور اس وقت تک آپ کا گلا نہیں چھوڑا جب تک آپ کی رُوح جسم خاکی سے پرواز کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم بالا کو پرواز نہیں کر گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ پہلے حضرت عثمان کی بیوی اس نظارہ کی ہیبت سے متأثر ہوکر بول نہ سکیں لیکن آخر انہوں نے آواز دی اور وہ لوگ جو دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے اندر کی طرف دوڑے۔مگر اب مدد فضول تھی جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔حضرت عثمان کے ایک آزاد کردہ غلام نے سودان کے ہاتھ میں وہ خون آلودہ تلوار دیکھ کر جس نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا نہ رہا گیا اور اس نے آگے بڑھ کر اس شخص کا تلوار سے سرکاٹ دیا۔اس پر اس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کر دیا۔اب اسلامی حکومت کا تخت خلیفہ سے خالی ہو گیا۔اہل مدینہ نے مزید کوشش فضول سمجھی اور ہر ایک اپنے اپنے گھر جا کر بیٹھ گیا۔ان لوگوں نے حضرت عثمان کو مار کر گھر پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا۔حضرت عثمان کی بیوی نے چاہا کہ اس جگہ سے ہٹ جاویں تو اس کے لوٹتے وقت ان میں سے ایک کم بخت نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو اس کے سرین کیسے موٹے ہیں۔بے شک ایک حیادار آدمی کے لئے خواہ وہ کسی مذہب کا پیرو کیوں نہ ہو اس بات کو باور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت 120