اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 119
میں داخل ہو جانے کی یقینی خبر آ چکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لئے آخری موقع تھا ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان کے سامنے جو قرآن دھرا ہوا تھا اس کو لات مار کر پھینک دیا۔قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان کے پاس آگیا اور آپ کے سر پر سے خون کے قطرات گر کر اس پر آ پڑے قرآن کریم کی بے اد بی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقویٰ اور دیانت کا پردہ اس واقع سے اچھی طرح فاش ہو گیا۔جس آیت پر آپ کا خون گراوہ ایک زبردست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت میں جا کر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔وہ آیت یی فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (البقرة :۱۳۸ ) اللہ تعالیٰ ضرور ان سے تیرا بدلہ لے گا اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا چاہا۔پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روکا اور آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔اس کے بعد پھر اس نے دوسرا وار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا مگر اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ کی بیوی کی انگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں۔پھر 119