اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 121
سابق (قدیم) صحابی آپ کے داماد! تمام اسلامی ممالک کے بادشاہ اور پھر خلیفہ وقت کو یہ لوگ ابھی ابھی مار کر فارغ ہوئے تھے ایسے گندے خیالات کا ان لوگوں نے اظہار کیا ہو۔لیکن ان لوگوں کی بے حیائی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ کسی قسم کی بد اعمالی بھی ان سے بعید نہ تھی یہ لوگ کسی نیک مدعا کو لے کر کھڑے نہیں ہوئے تھے۔نہ ان کی جماعت نیک آدمیوں کی جماعت تھی۔ان میں سے بعض عبد اللہ بن سبا یہودی کے فریب خوردہ اور اس کی عجیب و غریب مخالف اسلام تعلیموں کے دلدادہ تھے۔کچھ حد سے بڑھی ہوئی سوشلزم بلکہ بولشوزم کے فریفتہ تھے۔کچھ سزا یافتہ مجرم تھے جو اپنا دیرینہ بغض نکالنا چاہتے تھے۔کچھ لٹیرے اور ڈاکو تھے جو اس فتنہ پر اپنی ترقیات کی راہ دیکھتے تھے۔پس ان کی بے حیائی قابل تعجب نہیں۔بلکہ یہ لوگ اگر ایسی حرکت نہ کرتے تب تعجب کا مقام تھا۔جب یہ لوگ لوٹ مار کر رہے تھے ایک اور آزاد کردہ غلام سے حضرت عثمان کے گھر والوں کی چیخ و پکارٹن کر نہ رہا گیا اور اس نے حملہ کر کے اس شخص کو قتل کر دیا جس نے پہلے غلام کو مارا تھا۔اس پر ان لوگوں نے اُسے بھی قتل کر دیا اور عورتوں کے جسم پر سے بھی زیورا تار لئے اور ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے گھر سے نکل گئے۔باغیوں کا بیت المال کو لوٹنا اس کے بعد ان لوگوں نے اپنے ساتھیوں میں عام منادی کرادی کہ بیت المال کی طرف چلو اور اس میں جو کچھ ہولوٹ لو۔چونکہ بیت المال میں سوائے روپیہ کی دو تھیلیوں کے اور کچھ نہ تھا محافظوں نے یہ دیکھ کر کہ خلیفہ وقت شہید ہو چکا ہے اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا فضول ہے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں ان کو کرنے دو۔اور بیت المال 121