اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 95
کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہوا تھا انہیں اس کی حمایت میں لڑنا کچھ بھی دوبھر نہیں معلوم ہوتا تھا۔ان لڑائی پر آمادہ ہو جانے والوں میں مفصلہ ذیل صحابہ بھی شامل تھے۔سعد بن مالک ، حضرت ابوہریرہ ، زید بن صامت اور حضرت امام حسن۔جب حضرت عثمان کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فوراً ان کو کہلا بھیجا کہ ہرگز ان لوگوں سے نہ لڑیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔حضرت عثمان کی محبت جو آپ کو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سے تھی اس نے بے شک اس لڑائی کو جو چند جان فروش صحابہ اور اس دو تین ہزار کے باغی لشکر کے درمیان ہونے والی تھی روک دیا۔مگر اس واقعہ سے یہ بات ہمیں خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ صحابہ میں ان لوگوں کی شرارتوں پر کس قدر جوش پیدا ہو رہا تھا۔کیونکہ چند آدمیوں کا ایک لشکر جرار کے مقابلہ پر آمادہ ہو جانا ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ لوگ اس لشکر کی اطاعت کو موت سے بدتر خیال کریں۔اس جماعت میں ابو ہریرہ اور امام حسن کی شرکت خاص طور پر قابل غور ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ فوجی آدمی نہ تھے اور اس سے پیشتر کوئی خاص فوجی خدمت ان سے نہیں ہوئی۔اسی طرح حضرت امام حسن گو ایک جری باپ کے بیٹے اور خود جری اور بہادر تھے مگر آپ صلح اور امن کو بہت پسند فرماتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق صلح کے شہزادے تھے۔(مستدرک الحاكم الجزء الثالث كتاب معرفة الصحابة باب اخبار النبي بان الحسن يصلح به بين فئتين من المسلمين ) ان دو شخصوں کا اس موقع پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو جانا دلالت کرتا ہے کہ صحابہ اور دیگر اہل مدینہ 95