اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 94
جس کی تعمیر نہایت مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی کنکروں کا مینہ برسانہ شروع کیا اور کنکر مارمار کر صحابہ کرام اور اہل مدینہ کو مسجد نبوی سے باہر نکال دیا اور حضرت عثمان پر اس قدر کنکر برسائے گئے کہ آپ بے ہوش ہو کر منبر پر سے گر گئے اور چند آدمی آپ کو اٹھا کر گھر چھوڑ آئے۔یہ اس محبت کا نمونہ تھا جو ان لوگوں کو اسلام اور حاملانِ شریعت اسلام سے تھی۔اور یہ وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کو یہ لوگ حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر کے عالم اسلام میں جاری کرنا چاہتے تھے۔اس واقع کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے مقابلہ میں کھڑی ہونے والی جماعت صحابہ سے کوئی تعلق رکھتی تھی۔یا یہ کہ فی الواقع حضرت عثمان کی بعض کا روائیوں سے وہ شورش کرنے پر مجبور ہوئے تھے یا یہ کہ حمیت اسلامیہ ان کے غیظ و غضب کا باعث تھی۔ان کی بد عملیاں اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ نہ اسلام سے ان کو کوئی تعلق تھا نہ دین سے ان کو کوئی محبت تھی۔نہ صحابہ سے ان کو کوئی اُنس تھا۔وہ اپنی مخفی اغراض کے پورا کرنے کے لئے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہو رہے تھے اور اسلام کے قلعہ میں نقب زنی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔صحابہؓ کی مفسدوں کے خلاف جنگ پر آمادگی اس واقعہ ہائکہ کے بعد صحابہ اور اہل مدینہ نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں اس سے بھی زیادہ بغض بھرا ہوا ہے جس قدر کہ یہ ظاہر کرتے ہیں۔گووہ کچھ کرنہیں سکتے تھے مگر بعض صحابہ جو اس حالت سے موت کو بہتر سمجھتے تھے اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو جاوے ہم ان سے جنگ کریں گے۔اس دو تین ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں چار پانچ آدمیون کا لڑ نا دنیاداری کی نظروں میں شاید جنون معلوم ہو۔لیکن جن لوگوں نے اسلام 94