اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 96

ان مفسدوں کی شرارت پر سخت ناراض تھے۔مدینہ میں مفسدوں کے تین بڑے ساتھی صرف تین شخص مدینہ کے باشندے ان لوگوں کے ساتھی تھے ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابو بکر کے لڑکے تھے۔اور مؤرخین کا خیال ہے کہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی حیثیت رکھتا ہوں۔ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی نہ بعد میں ہی خاص طور پر دینی تعلیم حاصل کی حجتہ الوادع کے ایام میں پیدا ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابو بکر فوت ہو گئے اور اس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔(تهذيب التهذيب جلد ۹ صفحه ۷۰ مطبوعه لاهور) دوسر اشخص محمد بن ابی حذیفہ تھا یہ بھی صحابہ میں سے نہ تھا اس کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور حضرت عثمان نے اس کی تربیت اپنے ذمہ لے لی تھی اور بچپن سے آپ نے اسے پالا تھا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا۔آپ نے انکار کیا اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جا کر کوئی کام کروں۔آپ نے اجازت دے دی اور یہ مصر چلا گیا۔وہاں جا کر عبد اللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کو بھر کا نا شروع کیا۔جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو یہ ان کے ساتھ ہی آیا۔مگر کچھ دور تک آکر واپس چلا گیا اور اس فتنہ کے 96