اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 46
ان لوگوں کی اصلاح ہو گئی ہے اور ان میں سے ایک شخص مالک نامی کو حضرت عثمان کی خدمت میں بھیجا کہ وہاں جا کر معافی مانگو وہ حضرت عثمان کے پاس آیا اور توبہ کی اور اظہار ندامت کیا اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے معافی مانگی۔انہوں نے ان کو معاف کر دیا اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں مالک نے کہا کہ اب ہم عبد الرحمن بن خالد کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔حضرت عثمان نے اجازت دی اور وہ شخص واپس عبد الرحمن بن خالد کے پاس چلا گیا۔اس شخص کے عبد الرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کا دل ضرور صاف ہو چکا تھا۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایسے آدمی کے پاس جو شرارت کو ایک منٹ کے لئے روانہ رکھتا تھا واپس جانے کی خواہش نہ کرتا۔مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تو بہ بالکل عارضی تھی اور حضرت معاویہ کا یہ خیال درست تھا کہ یہ بے وقوف لوگ ہیں اور صرف ہتھیار بن کر کام کر سکتے ہیں۔عبد اللہ بن سبا اس عرصہ میں خاموش نہ بیٹھا ہوا تھا بلکہ اس نے کچھ مدت سے یہ رویہ اختیار کیا تھا کہ اپنے ایجنٹوں کو تمام علاقوں میں بھیجتا اور اپنے خیالات پھیلاتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص غیر معمولی عقل و دانش کا آدمی تھا۔وہ احکام جو اس نے اپنے ایجنٹوں کو دیئے اس کے دماغ کی بناوٹ پر خوب روشنی ڈالتے ہیں۔جب یہ اپنے نائب روانہ کرتا تو ان کو ہدایت دیتا کہ اپنے خیالات کو فور لوگوں کے سامنے نہ پیش کر دیا کرو بلکہ پہلے وعظ و نصیحت سے کام لیا کرو۔اور شریعت کے احکام لوگوں کو سنا یا کرو۔اور اچھی باتوں کا حکم دیا کرو اور بری باتوں سے روکا کرو۔جب لوگ تمہارا یہ طریق دیکھیں گے تو ان کے 46