اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 36

الناس کا تو جوش بے قابو ہوتا ہی ہے اس بات کو سن کر ایک بڑی جماعت ان کے ساتھ ہو گئی اور ولید کے گھر کا سب نے جا کر محاصرہ کر لیا۔دروازہ تو کوئی تھا ہی نہیں۔سب بے تحاشا مسجد میں سے ہو کر اندر گھس گئے (ان کے مکان کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا) اور ولید کو اس وقت معلوم ہوا جب وہ ان کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔انہوں نے ان کو دیکھا تو گھبرا گئے۔اور جلدی سے کوئی چیز چار پائی کے نیچے کھسکا دی۔انہوں نے خیال کیا کہ اب بھید کھل گیا اور چور پکڑا گیا۔جھٹ ایک شخص نے بلا بولے چالے ہاتھ اندر کیا اور وہ چیز نکال لی۔دیکھا تو ایک طبق تھا اور اس کے اندر والی کوفہ کا کھانا اور انگوروں کا ایک خوشہ پڑا تھا جسے اس نے صرف اس شرم سے چھپا دیا تھا کہ ایسے بڑے مالدار صوبہ کے گورنر کے سامنے صرف یہی کھانا رکھا گیا تھا۔اس امر کو دیکھ کر لوگوں کے ہوش اُڑ گئے سب شرمندہ ہو کر اُلٹے پاؤں لوٹے اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ بعض شریروں کے دھوکا میں آکر انہوں نے ایسا خطر ناک جرم کیا اور شریعت کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔مگر ولید نے شرم سے اس بات کو دبا دیا اور حضرت عثمان کو اس امر کی خبر نہ کی۔لیکن یہ ان کا رحم جو ایک غیر مستحق قوم کے ساتھ کیا گیا تھا آخر ان کے لئے اور ان کے بعد ان کے قائمقام کے لئے نہایت مضر ثابت ہوا۔مفسدوں نے بجائے اس کے کہ اس رحم سے متاثر ہوتے اپنی ذلّت کو اور بھی محسوس کیا اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے ولید کی تباہی کی تدابیر کرنی شروع کیں اور حضرت عثمان کے پاس وفد بن کر گئے کہ ولید کو موقوف کیا جائے۔لیکن انہوں نے بلاکسی جرم کے والی کو موقوف کرنے سے انکار کر دیا۔یہ لوگ واپس آئے تو اور دوسرے تمام ایسے لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا جو سزایافتہ تھے۔اور مل کر مشورہ کیا کہ جس طرح ہو جھوٹ سچ ولید کو ذلیل کیا جاوے۔ابوزینب اور ابومورع دو شخصوں نے اس بات کا ذمہ لیا کہ وہ کوئی 36