اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 35

مطابق اپنی غرض کو بیان کرتا تا کہ اس کی ہمدردی حاصل ہو جاوے۔مدینہ شرارت سے محفوظ تھا اور شام بالکل پاک تھا۔تین مرکز تھے جہاں اس فتنہ کا مواد تیار ہورہا تھا بصرہ،کوفہ اور مصر۔مصر مرکز تھا۔مگر اس زمانہ کے تجربہ کار اور فلسفی دماغ انارکسٹوں کی طرح ابن السوداء نے اپنے آپ کو خلف الاستار رکھا ہوا تھا۔سب کام کی روح وہی تھا مگر آگے دوسرے لوگوں کو کیا ہوا تھا۔بوجہ قریب ہونے کے اور بوجہ سیاسی فوقیت کے جو اس وقت بصرہ اور کوفہ کو حاصل تھی یہ دونوں شہران تغییرات میں زیادہ حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لیکن ذرا بار یک نگاہ سے دیکھا جاوے تو تاریخ کے صفحات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام کاروائیوں کی باگ مصر میں بیٹھے ہوئے ابن السوداء کے ہاتھ میں تھی۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ کوفہ میں ایک جماعت نے ایک شخص علی بن حیسمان الخزاعی کے گھر پر ڈاکہ مار کر اس کو قتل کر دیا تھا اور قاتلوں کو دروازہ شہر پر قتل کر دیا گیا تھا۔ان نوجوانوں کے باپوں کو اس کا بہت صدمہ تھا اور وہ اس جگہ کے والی ولید بن عتبہ سے اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور منتظر رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے اور ہم انتقام لیں۔یہ لوگ اس فتنہ انگیز جماعت کے ہاتھ میں ایک عمدہ ہتھیار بن گئے جن سے انہوں نے خوب کام لیا۔ولید سے بدلہ لینے کے لئے انہوں نے کچھ جاسوس مقرر کئے تا کہ کوئی عیب ولید کا پکڑ کر ان کو اطلاع دیں۔جاسوسوں نے کوئی کاروائی تو اپنی دکھانی ہی تھی۔ایک دن آکر ان کو خبر دی کہ ولید اپنے ایک دوست ابوز بیر کے ساتھ مل کر جو عیسائی سے مسلمان ہوا تھا شراب پیتے ہیں۔ان مفسدوں نے اٹھ کر تمام شہر میں اعلان کرنا شروع کر دیا کہ لو یہ تمہارا والی ہے۔اندر اندر چھپ چھپ کر اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پیتا ہے۔عامتہ 35