اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 97
97 40 عليه ان علماء کرام نے عصمت انبیاء کرام علم السلام کے متعلق ایک حفظہ بات لکھی ہے کہ وہ تمام انبیاء جن کی نبوت معلوم ہے ان کی نبوت کا انکار یا ان کی شان میں تنقیص کرنا یا ان پر عیب جوئی کرنا یا تو ہین وتحقیر کرنا یا ان میں سے کسی نبی کی نبوت میں شک کرنا موجب کفر ہے۔ی جو شخص انبیاء کرام ملا عم السلام کی طرف بدکاریوں کی یا بدیوں کی نسبت کرنے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف قصد زنا کی نسبت کرنا اس سے بھی کفر لازم آتا ہے۔ایسے ہی وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ کہے انبیاء کرام عم السلام نبوت کے ملنے سے پہلے۔کبیرہ گناہوں سے معصوم نہیں ہوتے۔کیونکہ یہ عقیدہ صریح نصوص شرعیہ کے خلاف ہے۔“ شاتم رسول علی تعلیم کی شرعی سزا تالیف پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی شائع کردا مکتبہ قدوسیہ رحمان مارکیٹ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور پاکستان صفحه ۱۵۸و۱۵۹) اسی طرح ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے کہ دو سو اب اگر کوئی بالواسطہ یا بلا واسطه تو بین ایزدی، توہین رسالتمآب صلی ، توبین قرآن وسنت تو بین عقائد اسلامی، تو بین ارکان اسلام تو ہین انبیاء علیهم السلام غرضیکہ دین اسلام کی کسی بھی پہلو کی تو ہین کا ارتکاب کرتا ہے تو سیکشن A-295 کے تحت مجرم ہے۔“ ( تحفظ ناموس رسالت مصنفہ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری شائع کردا منہاج القرآن ۳۶۵ ایم ماڈل ٹاؤن لاہور صفحہ ۲۴) توہین رسالت کے یہ چند نمونے پیش کئے گئے ہیں۔اور یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تو بین انبیاء اور توہین رسالت کے طریق میں بھی تبدیلی آئی ہے تو بین رسالت کے لئے جہاں تحریر وتقریر کا سہارا لیا جاتا ہے وہاں چند سالوں سے آنحضور میلیم کے خاکے بنا کر بھی اخبارات و اشتہارات کے طور پر بھی شائع کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں