اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 96
96 96 قرآن کریم نے جس بات کی نشاندہی کی ہے یہ بات رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی بن سلول نے کی تھی اور جو الفاظ اس شخص نے استعمال کئے تھے یہ رسول خدا اصلی نیلم کی شدید تو ہین پر منتج ہیں۔الغرض انبیاء کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا ان کی توہین کرنا یہ نبی کے مخالفوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور دیگر انبیاء کی تو ہین کیسے کیسے الفاظ سے کی جاتی تھی اس کی مثالیں بھی قرآن کریم میں موجود ہیں۔تو بین کے بارہ میں پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الد راوی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ۔نبوت ورسالت کا سلسلہ ایک انعام الہی تھا جن مقربانِ الہی کو عطا ہو گیا، ان کی صدق وامانت پر ایمان لانا ان سے محبت رکھنا اور ان کی عزت کا دفاع کرنا بعد میں آنے والے تمام لوگوں پر فرض ہو گیا۔ہمارے نبی جناب حضرت محمد علی شادی سے پہلے تقریباً سوا لاکھ انبیاء و ن علیھم السلام گزر چکے ہیں۔آپ علیم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ان تمام سابقہ انبیاء کرام علیھم السلام کی عزت اور محبت اہل اسلام پر فرض ہے جو کوئی ایسا نہیں کرتاوہ ایمان سے خالی ہے۔جتنے بھی سابقہ انبیاء گزرے ہیں ان کی حرمت کا پاس رکھنا ان کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ان انبیاء کرام میھم السلام کی عیب چینی ان کی تو ہین وتنقیص سرا سرا کفر ہی نہیں بلکہ سب سے بڑا کفر اور بدبختی ہے۔کتاب اللہ سنت رسول الله علم اجماع امت اور اجماع اہم، قیاس سب اس بات پر گواہ اور دلیل ہیں کہ انبیاء علیھم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔متقدمین علماء نے اس سلسلہ میں بڑی ہی تشفی بخش کتابیں لکھی ہیں اور انہیں ہر طرح کے دلائل سے معمور و معطر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کتابوں کو ان کے اعمال صالحہ اور باقیات صالحات میں سے بنا دئے اور آنے والوں کو ان سے خاطر خواہ استفادہ کرنے کی سلين توفیق دے۔