اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 72
72 میں نے گالیوں کا جواب دیا تو آپ مالی ناراض ہو کر چلے آئے، آنحضرت میم نے فرمایا۔كان مَعَكَ مَلَكَ يَرُدُّ عَلَيهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ( مشکوۃ کتاب الآداب باب الرفق) اے حضرت ابوبکر جب تک آپ گالیاں دینے والے کے سامنے خاموش تھے فرشتہ اسے جواب دے رہا تھا۔مگر جب آپ نے جواب دینا شروع کیا تو شیطان آگیا اور اس وجہ سے میں وہاں سے چلا آیا۔ایک مرتبہ ایک بڈو نے آپ کی خدمت میں دست سوال دراز کرتے ہوئے عجیب گستاخانه طریق اختیار کیا۔آپ کی چادر کو اس نے اتنے زور سے کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا مجھے اللہ کے اس مال سے ادا کریں جو آپ کے پاس (امانت) ہے۔آپ نے اس دیہاتی کے اس رویہ پر صرف صبر و ضبط اور تمنمل کا مظاہرہ کیا بلکہ نہایت فراخدلی سے مسکراتے ہوئے اس کی امداد کرنے کا حکم دیا۔( بخاری کتاب النفقات و كتاب اللباس باب البرد ) ایک دفعہ رسول کریم نے ایک بڈو سے ایک وسق خشک کھجور ( قریباً سواد ومن ) کے عوض اونٹ خریدا۔گھر تشریف لا کر دیکھا تو کجھور ختم ہو چکی تھی۔آپ نے کمال سادگی اور سچائی سے جا کر اس بڈو سے صاف صاف کہا کہ اے خدا کے بندے ! ہم نے آپ سے خشک کھجور کے عوض اونٹ خریدا تھا اور ہمیں خیال تھا کہ اس قدر کھجور ہمارے پاس ہوگی مگر گھر آ کر پتہ چلا ہے کہ اتنی کھجور موجود نہیں۔وہ بڈو کہنے لگا اے دھو کے باز لوگ اسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے کہ رسول اللہ گو اس طرح کہتے ہو۔مگر رسول کریم نے فرمایا اسے جانے دو۔۔(مسند احمد جلد 6 صفحه 268 شائع شدہ بیروت)