اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 73 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 73

73 محاصرہ طائف کی واپسی پر مشہور شاعر کعب بن زہیر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا دراصل اس کے والدز ہیر نے اہل کتاب کی مجالس میں ایک نبی کی آمد کا ذکر سن رکھا تھا اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ اسے قبول کریں۔رسول اللہ کی بعثت پر اس کے ایک بیٹے بجیر نے تو اسلام قبول کر لیا۔جب کی کعب رسول اللہ اور مسلمان خواتین کی عزت پر حملہ کرتے ہوئے گندے اشعار کہتا تھا۔فتنہ پردازی کرتا لوگوں کو آپ کے خلاف مشتعل کرتا تھا اس بنا پر رسول اللہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔کعب کے بھائی نے اسے لکھا کہ مکہ فتح ہو چکا ہے اس لئے تم آکر رسول اللہ سے معافی مانگ لو۔چنانچہ اس نے رسول اللہ کی شان میں ایک قصیدہ لکھا جو بانٹ سُعادُ“ کے نام سے مشہور ہے۔وہ مدینہ آ کر اپنے ایک جاننے والے کے پاس ٹھہرا۔اہل مدینہ میں سے اسے کوئی پہچانتا نہ تھا۔اس نے فجر کی نماز نبی کریم علیم کے ساتھ مسجد نبوی میں جا کر ادا کی اور رسول اللہ کی خدمت میں اپنا تعارف کروائے بغیر کہنے لگا یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر تائب ہو کر آیا ہے اور معافی کا خواستگار ہے اگر اجازت ہو تو اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے؟ آپ نے فرمایا ” ہاں تو کہنے لگا میں ہی کعب بن زہیر ہوں یہ سنتے ہی ایک انصاری حضور کے سابقہ حکم کے مطابق اسے قتل کرنے کے لئے اٹھے۔رسول اللہ نے فرمایا نہیں اب اسے چھوڑ دو یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے۔پھر اس نے اپنا قصیدہ حضور کی شان میں پیش کیا جس میں یہ شعر بھی پڑھا۔إِنَّ الرَسُوْلَ لَسَيْف يُسْتَضَاءُ بِهِ مُهَنَّدُ مِنْ سَيُوْفِ اللَّهِ مَسْلُولُ یعنی یہ رسول ایک ایسی تلوار ہے جس کی چمک سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔یہ زبر دست سونتی ہوئی ہندی تلوار ہے جو اللہ کی تلوار میں سے ہے۔رسول اللہ یہ قصیدہ سن کر بہت خوش