اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 71
71 واپس آیا اور آتے ہی آنحضرت تعلیم کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا۔والله مَا كَانَ عَلَى الارضِ وَجهُ أَبْغَضَ إِلى مِن وَجْهِكَ فَقَد أَصبَحَ وَجُهُ أَحَبَّ الوُجُودِ الَى وَاللهِ مَا كَانَ مِن دِين ابغَضَ إِلى مِن دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى وَاللهِ مَا كانَ مِن بَلْدِ أَبغَضَ إِلى مِن بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بلدك أحب البلاد الى ( بخاری کتاب المغاری ) اے محمد عال العالم ! خدا کی قسم اس روئے زمین پر جتنے چہرے ہیں ان میں سے مجھے سب سے زیادہ نفرت آپ کے چہرے سے تھی مگر اب خدا کی قسم مجھے آپ کا چہرا سب سے زیادہ محبوب اور پیارا ہے۔خدا کی قسم آپ کے دین سے زیادہ مجھے کوئی دین نا پسند نہ تھا لیکن آج مجھے آپ کا دین سب سے پیارا ہے۔خدا کی قسم آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسند تھا لیکن آج یہ مجھے سب شہروں سے پیارا ہے۔اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفے ملا لیا لیلی نے بڑے بڑے گستاخی کرنے والوں کو اپنی دعا اور توجہ اور اپنے حسن اخلاق سے اپنا گرویدہ بنالیا۔جولوگ اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے وہی اسلام کے سب سے بڑے خدمت گزار بن گئے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔آنحضرت علی وہاں موجود تھے آپ متعجب تھے اور مسکراتے رہے۔جب اس آدمی نے زیادہ گالیاں دینی شروع کیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔آنحضرت صلیم ناراض ہو گئے اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور حضور علیم کی خدمت میں عرض کیا۔جب وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا تو آپ وہاں تشریف فرمار ہے۔اور جب