اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 59 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 59

59 ہمیشہ یہی دکھائی دیگا کہ انبیاء کا انکار کرنے والوں ہی نے ہمیشہ ایسے الزام ایمان لانے والوں پر لگائے ہیں۔اور ان کے خلاف کفر کے فتوے بھی دئے اور قتل کے فتوے بھی دئے۔ایسی ایک بھی مثال کسی بھی نبی کی زندگی سے پیش نہیں کی جاسکتی۔انبیاء کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔بڑی عجیب بات ہے کہ جب بھی کوئی نبی آیا تو ہمیشہ اس کا انکار کرنے والوں ہی نے اس سے اور اس پر ایمان لانے والوں سے زیادتی کی اور ان پر الزامات بھی لگائے۔اور ان کے لئے توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کئے ایمان لانے والوں کو دکھ بھی دئے اور ان کو مارا پیٹا بھی گیا اور قتل تک کیا گیا اس کے مقابلہ پر انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں نے انکار کرنے والوں سے کبھی بھی ایسا سلوک نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان سے درگذری کی اور ان کی گستاخیوں کے باوجود انہیں معاف کیا۔اگر سابقہ انبیاء کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو بھی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفے علم کا اسوۃ اور نمونہ شہادت کے لئے کافی ہے۔حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ رسول کریم علی ایم کو تحیک و استھر۔اء کا نشانہ بنانے والے ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔حتی کہ سید نا حضرت محمد مصطفی ملی لی ایم کے عہد مبارک میں بھی موجود تھے لیکن غور کرنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایسے گستاخان رسول کے ساتھ خود سیدنا محمد مصطفی صلا علم کا اپنا سلوک و طریق کیا تھا۔ایسے نازک وحساس اور جزباتی معاملہ پر مسلمانوں کو اسوہ رسول کریم صلہ پر ہی عمل کرنا چاہئے۔کیونکہ اسی میں اسلام کی تعلیمات اور اخلاق کی سر بلندی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رسول کریم ملایم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا X وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ( سورة القلم آيت 5) اے محمد آپ نہایت ہی علی درجہ کے اخلاق پر قائم ہیں۔