اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 58
58 کیوں چھینا جاتا ہے؟ حالانکہ غایت نظر سے دیکھا جائے تو آزادی رائے کا حق دراصل مذہب ہی نے انسان کو دیا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رہبر نہیں آیا تھا اس وقت تک انسان اور جانور میں کوئی فرق نہ تھا۔دنیا میں زندگی گزارنے کے اصول اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے انبیاء ہی نے سکھائے ہیں۔اور وہ بھی آہستہ آہستہ جیسے جیسے انسانی عقل پروان چڑھتی گئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مطابق انبیاء کے ذریعہ اس کی ھدایت کے سامان پیدا ہوتے رہے اور انسان آہستہ آہستہ ترقی کرتا رہا یہاں تک کے وہ اشرف المخلوقات ٹھہرا۔دنیا میں انبیاء کا سلسلہ ابتداء آفرینش سے ہے اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے اللہ سے حکم پا کر انسان کی راہنمائی کی۔سلسلہ انبیاء کو دیکھا جائے تو جب بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام دنیا والوں کو دیا تو دنیا والوں نے ہمیشہ ہی ان سے اختلاف کیا اور انکار کیا۔اس انکار کی بڑی وجہ ہی یہی رہی کہ وہ اپنے اباء و اجداد ہی کے دین کو سچا مانتے تھے اور کسی نئے نبی کے آنے کا تصور بھی نہیں رکھتے۔ہاں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ فراصت عطا کرتا ہے وہ آنے والے انبیاء کو قبول کرتے ہیں۔اس اختلاف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انکار کرنے والے ہمیشہ ہی ایمان لانے والوں کو بے دین اور مرتد کے خطابات سے نوازتے رہے ہیں۔اور انہیں ہمیشہ ہی تو ہین انبیاء کے مرتکب گردانتے رہے۔ہوتا یہ ہے کہ انبیاء پر ایمان لانے والے سابقہ انبیاء کے بارے میں اپنی زبان سے کوئی بھی ایسا جملہ نہیں نکالتے جس سے ان انبیاء کی توہین ہو کیونکہ وہ انہیں آنے والے نبی پر ایمان لانے سے قبل بھی سچا نبی ہی مانتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں اس لئے آنے والے بنی پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ سابقہ انبیاء کو بھی اسی طرح کا سچا اور قابل تعظیم نبی مانتے ہیں اس لئے ان کی طرف سے تو انبیاء کی توہین کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو