اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 46
40 46 نہیں پایا جاتا جن کو فریق معترض علیہ سے اپنی مسلّمہ مقبولہ کتابیں قرار دے کر ان کے بارے میں اپنے مذہبی مخالفوں کو بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مطلع کر دیا ہے تو بلاشبہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شخص معترض نے صحت نیت کو چھوڑ دیا ہے۔تو اس صورت میں ایسے مکار اور فریبی لوگ جن حیلوں اور تاویلوں سے اپنی بدنیتی کو چھپانا چاہتے ہیں وہ تمام حیلے سکتے ہو جاتے ہیں اور بڑی سہولت سے حکام پر اصل حقیقت کھل جاتی ہے۔اور اگر چہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یاوہ گولوگوں کی زبانیں روکنے کے لئے یہ ایک کامل علاج ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بہت کچھ یاوہ گوئیوں اور ناحق کے الزاموں کا اس سے علاج ہو جائے گا۔دوسری ضرورت اس قانون کے پاس کرنے کے لئے یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ملک کی اخلاقی حالت روز بروز بگڑتی جاتی ہے۔ایک شخص سچی بات کو سن کر پھر اس فکر میں پڑ جاتا ہے کہ کسی طرح جھوٹ اور افتراء سے مدد لے کر اس سچ کو پوشیدہ کر دیوے اور فریق ثانی کو خواہ نخواہ ذلت پہنچاوے۔سوملک کو تہذیب اور راست روی میں ترقی دینے کے لئے اور بہتان طرازی کی عادت سے روکنے کے لئے یہ ایک ایسی عمدہ تدبیر ہے جس سے بہت جلد دلوں میں بچی پر ہیز گاری پیدا ہو جائے گی۔تیسری ضرورت اس قانون کے پاس کرنے کی یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ہماری محسن گورنمنٹ کی قانون پر عقل اور کانشنس کا اعتراض ہے۔چونکہ یہ دانا گورنمنٹ ہر یک نیک کام میں اول درجہ پر ہے تو کیوں اس قدر الزام اپنے ذمہ رکھے کہ کسی کو یہ بات کہنے کا موقعہ ملے کہ مذہبی مباحثات میں اس کے قانون میں احسن انتظام نہیں، ظاہر ہے کہ ایسی بے قیدی سے صلح کاری اور باہمی محبت دن بدن کم ہوتی جاتی ہے۔اور ایک فریق دوسرے فریق کی نسبت