اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 45 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 45

45 اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اس کے مقابل پر اس کے پیغمبر اور مقتداء کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو ہر ایک مسلمان اس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف۔وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیلی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ انہیں تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس میں کوئی مصلح نہیں گزرا۔اس لئے گزشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں۔ایک مسلمان ہر گز بددیانتی نہیں کر سکتا۔بلکہ اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے۔مگر قانونی تدارک بد نیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون کی رو سے بہت مشکل امر ہے۔لہذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہیں اور مخالف فتحیاب کو اور بھی تو بین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے۔اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے ابھی تک اس کا کوئی کافی تدارک قانون میں موجود نہیں۔اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بدنیتی میں تمیز ہو جائے یہی سبب ہے کہ نیک نیتی کے بہانہ سے ایسی دلآ زار کتابوں کی کروڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔لہذا ان شرائط کا ہونا ضروری ہے جو واقعی حقیقت کی کھلنے کے لئے بطور مؤید ہوں۔اور صحت نیت اور عدم صحت کے پر کھنے کے لئے بطور معیار کے ہوسکیں۔سو وہ معیار وہ دونوں شرطیں ہیں جو او پر گزارش کر دی گئی ہیں۔کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جو شخص کوئی ایسا اعتراض کسی فریق پر کرتا ہے جو د ہی اعتراض اس پر بھی اس کی الہامی کتابوں کی رو سے ہوتا ہے۔یا ایسا اعتراض کرتا ہے جو ان کتابوں میں