اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 364 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 364

364 اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم بیا کی تو ہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندان کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم علیم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے اور دل رورو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو والله ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو ان گالیوں اور اس تو بین سے جو ہمارے رسول کریم کی گئی دکھا۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 50-51) نیز ایک مقام پر فرماتے ہیں ”میرے دل کو کسی چیز نے اتنی تکلیف نہیں دی جتنی ان دشمنوں کے حضرت محمد مصطفی کے استہزا کرنے نے دی ہے۔خدا کی قسم اگر میرے سارے لڑکے اور اولاد اور پوتے میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئے جائیں اور میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے جائیں اور میری آنکھیں نکال دی جائیں اور مجھے میرے تمام مرادوں اور معین و مددگاروں سے محروم کر دیا جائے تو تب بھی یہ تمام امور مجھ پر ان کے آپ سے استہزا سے زیادہ گراں نہیں۔“ 66