اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 320
320 اجماع صحابہ رضی اللہ تھم سے استدلال امام ابن تیمیہ نے اجماع صحابہ کا عنوان باندھ کر دو تین واقعات بیان کئے ہیں لیکن ان کی کوئی شہادت پیش نہیں کی صرف سیف بن عمر اتمیمی کے کتاب الردة والفتوح کے حوالہ سے جس میں وہ اپنے شیوخ کے حوالہ سے بات بیان کرتے ہیں درج کیا ہے جس میں حضرت ابو بکر کے ایک خط کا ذ کر تاریخ طبری کے حوالہ سے کیا ہے۔اس میں بھی ایسا کوئی جملہ دکھائی نہیں دیتا کہ جس سے یہ خیال بھی کیا جا سکے کہ حضرت ابوبکرؓ نے قرآن وسنت کے حوالہ سے کوئی بات بیان کر کے کسی کے قتل کا حکم دیا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ تاریخ جمع کرنے والوں نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں بلکہ ان تک جو بات بھی پہنچی وہ انہوں نے تاریخ کا حصہ بنادی اس طرح بہت سے ایسے واقعات بھی تاریخ میں ملتے ہیں جن کے سچا ہونے پر یقین نہیں آتا کیونکہ ایسا عمل قرآن وسنت کے خلاف ہے اور مسلمان آغاز اسلام میں ہی اسلامی تعلیم سے اس قدر دور ہو جائیں گے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔الغرض خلافتِ راشدہ کے دور سے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا بیان نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا قتل ہے اور خلفائے راشدین اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔اس عنوان کے تحت چھ صفحات پر بحث کی ہے لیکن ایک بھی حوالہ درج نہیں کیا صرف عمومی بحث کر کے دلیل دینے کی کوشش کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ باقی مصنفین نے اس عنوان پر کچھ بیان کرنے سے اجتناب کیا ہے اور تاریخ اسلام میں خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ کسی کو تو بین رسالت کی بنا پر قتل کیا گیا ہو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں اصحاب رسول اور خلفائے اسلام اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام کسی ہجو کرنے والے اور توہین رسالت کرنے والے کے لئے قتل کی سزا مقرر نہیں کرتا۔کیونکہ رسول