اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 304 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 304

۱۴۔ابورافع یہودی کا قتل 304 ابورافع کے قتل کا مشہور واقعہ ہے اس کو امام بخاری نے بھی کتاب المغازی میں بیان کیا ہے۔امام بخاری دوروایات کے حوالہ سے اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں لیکن اس میں کسی جگہ بھی اس بات کا اشارہ بھی نہیں ملتا کہ یقتل توہین رسالت کے جرم میں کیا گیا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک یہودی تھا اور یہود کی رسول کریم علی سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی تھی۔کعب بن اشرف کا واقعہ آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں۔کعب بن اشرف ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے رسول کریم علیم کے مدینہ آنے کے بعد آپ سے ایک معاہدہ کیا تھا اس کے باوجود اس نے رسول کریم صلی علیم اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کی کوئی راہ نہیں چھوڑی تھی۔یہ شخص بھی ایسی ہی ریشہ دوانیوں میں ملوث تھا بلکہ کعب بن اشرف سے بھی آگے بڑھا ہوا تھا اس کی وجہ تھی کہ اس کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا اس لئے جو چاہتا کرتا اور جیسے چاہتا کرتا تھا۔لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا مسلمانوں میں بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔اور رسول کریم لیلی لیلی اور آپ کے ماننے والوں کو ہر قسم کے دکھ پہنچانے کی کوشش کرنا اس کے اہم کاموں میں سے تھا۔انہیں وجوہات کی بنا پر رسول کریم یلا لیلی نے اس کی سرکوبی کا حکم صادر فرمایا تھا۔امام ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ”حضرت البراء اور ابن کعب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم علی ایم سے اجازت لے کر رات کو اسے قتل کرنے کے لئے گئے، اس لئے کہ وہ رسول کریم علیم کو ایذا دیتا اور عداوت رکھتا تھا گویاوہ کعب بن اشرف کی مانند تھا اس فرق کے ساتھ کی کعب بن اشرف معاہد تھا اور جب اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی تو آپ نے مسلمانوں کو اس کے قتل کرنے کے لئے کہا مگر ابورافع معاہد نہ تھا۔( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۲۱۶)