اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 261
261 اور یہی وسعت علم ہمارے یورپین مصنفین کو اس کا دلداہ بنارہی ہے۔انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ واقدی سچا تھا یا جھوٹا۔اس کی عادت ایک محتاط محدث کی طرح تحقیق کر کے بات کرنے کی تھی یا کہ یونہی واہی تباہی کہتے جانے کی۔ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ واقدی جو کچھ کہتا ہے تفصیل سے کہتا ہے، اور یوں کہتا ہے جیسے کوئی شخص پاس بیٹھا ہوا سب کچھ دیکھ رہا ہو۔اگر اس کا کوئی قول کسی صحیح اور مضبوط روایت کے خلاف ہے تو ہوا کرےان کے لئے سب روایتیں برابر ہیں اور سوائے اپنے دماغ کی شہادت کے اور کوئی شہادت قابل قبول نہیں۔مسلمان محققین جو اپنی عمریں کھپا کھپا کر ہر روایت سے بال کی کھال نکالی ہے اور ہر راوی کے صحیح صحیح حالات معلوم کر کے علم روایت کے لئے ایک سچا تراز ومہیا کر دیا ہے اہل مغرب کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بہر حال ہم کسی کے قلم اور زبان کو تو روک نہیں سکتے مگر ہم بتادینا چاہتے ہیں کہ واقدی کے متعلق ان مسلمان محققین نے جن کی دیانت وامانت اور اصابت رائے کو سب نے تسلیم کیا ہے کیا رائے دی ہے۔ا۔امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ ۱۱ راه تا ۲۴۱ ھ واقدی کے بارے رائے فرمایا هُوَ كَذَّابٌ يُقلِبُ الحَدِيث یعنی واقدی پرلے درجہ کا جھوٹ بولنے والا شخص ہے جوروایتوں کو بگاڑ بگاڑ کر بیان کرتا ہے۔۲۔ابو احمد عبد اللہ بن محمد المعروف بابن عدی ۲۷۷ ھ تا ۳۶۵ ھ کی رائے احَادِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ وَالْبَلَاءُ مِنْهُ یعنی واقدی کی روایتیں قابل اعتبار نہیں ہیں اور یہ خرابی خود اس کے نفس کی طرف سے ہے۔۳۔ابوحاتم محمد بن ادریس ۱۹۵ھ تا ۲۷۷ھ کی رائے يَضَعُ الْحَدِيقَ یعنی واقدی اپنے پاس سے جھوٹی حدیثیں بنا بنا کر بیان کیا کرتا تھا۔