اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 260 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 260

260 مصنف نے بھی واقدی کی کمزور سے کمز ور روایت کو بھی اپنی کتاب میں درج کیا ہے جس سے اسلام کی حسین تعلیم پر اور آنحضرت سلیم کی عظمت و شان پر ضرب آتی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں۔واقدی کے متعلق ہمیں کچھ علیحدہ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن بدقسمتی سے یورپین مصنفین نے اسے اتنا نوازا ہے کہ اس کی حقیقت کے اظہار کے لئے علیحدہ نوٹ ضروری ہو گیا ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، واقدی کا زمانہ ۱۳۰ھ سے لیکر ۲۰۷ ھ تک تھا اور اس میں شبہ نہیں کہ زمانہ کے لحاظ وہ کسی دوسرے مؤرخ سے کم محفوظ پوزیشن میں نہیں تھا۔مگر یہ بات کسی شخص کے ذاتی صفات و عادات کا رُخ بدل نہیں سکتی اور حقیقیت یہ ہے کہ واقدی اپنی وسعت علم کے باوجود ایک بالکل نا قابل اعتبار اور غیر ثقہ شخص تھا اور متقین نے اسے بالاتفاق جھوٹا اور دروغ گو قرار دیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ساری روایات غلط اور جھوٹی ہوتی تھیں۔دنیا میں جھوٹے سے جھوٹا انسان بھی ہمیشہ جھوٹ نہیں بولتا بلکہ حق یہ ہے کہ ایک جھوٹے آدمی کی بھی اکثر باتیں سچی اور واقعہ کے مطابق ہوتی ہیں۔لیکن دوسری طرف اس بات میں بھی ہرگز کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ جو شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہو اس کی کوئی بات بھی قابل حجت نہیں رہتی۔واقدی کے متعلق یہ مسلم ہے کہ وہ ایک عالم انسان تھا اور اس کے تاریخی معلومات اتنے وسیع تھے کہ اس زمانہ میں کسی اور مؤرخ کے کم ہوں گے۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وسعت معلومات نے ہی اس کے سر کو پھیر دیا تھا کہ وہ کسی بات کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرنے کی بجائے خود اپنی طرف سے بات بنا کر بیان کر دیا کرتا تھا؛ چنانچہ اس کے متعلق ایک محقق کا یہ بہت اچھا مقولہ ہے کہ اگر واقدی سچا ہے تو بے نظیر ہے اور اگر جھوٹا ہے تب بھی عدیم المثال ہے۔( بحوالہ تہذیب التہذیب حالات واقدی) مگر بد قسمتی سے واقدی کی یہی طلاقت لسان