اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 21 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 21

21 کہ اس کے مقابلہ پر بندوق تان لے۔قرآنی تعلیم یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی کسی پر زیادتی کر بیٹھا ہے تو اول تو وہ اسے معاف کر دے اور اگر معاف نہیں کرتا تو اسے اسی قدر بدلہ لینے کا حق ہے جس قدر اس نے زیادتی کی ہے۔اس وقت دنیا میں جس قدر بھی فساد برپا ہے اس کا اصل سبب ہی یہ ہے کہ دنیا سے انصاف اٹھ چکا ہے اور اسلام اسی انصاف کو قائم کرنے آیا ہے اگر آج ہر جگہ انصاف قائم ہو جائے اور لوگوں کے حقوق حق اور انصاف کے ساتھ ادا کئے جائیں تو یہ فتنہ وفساد کی فضاء امن میں تبدیل ہو سکتی ہے اور یہی اسلام اور قرآن کا حکم ہے۔ایک بات عام طور پر یہ بھی دیکھی جاتی ہے کہ جب اپنی بات آتی ہے تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن جب دوسروں کی یا کمزوروں کی باری آتی ہے تو اپنی مرضی ے فیصلے کئے جاتے ہیں اور اسی کا نام انصاف رکھ لیا جاتا ہے یہ اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔اللہ تعالی نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر مخالف قوم کے درمیان بھی اور دشمنوں کے درمیان بھی تمہیں انصاف کرنا ہو تو تمہاری دشمنی بھی انصاف کے آڑے نہیں آنی چاہیئے اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرُ بمَا تَعْمَلُونَ (المائده آیت ۹) یعنی۔اے ایماندارو ! تم انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے لئے استادہ ہو جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر امادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو تیم انصاف کرو وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے