اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 20
20 20 بَعْدَ ذلِكَ فَلَه عَذَابٌ أَلِيمه (البقرہ آیت ۱۷۹) یعنی۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر مقتولوں کے بارے میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے اگر ( قاتل ) آزاد ( مرد ) ہو تو اس آزاد ( قاتل ) سے اور اگر ( قاتل ) غلام ہو تو اس غلام ( قاتل ) سے اور اگر ( قاتل ) عورت ہو تو اسی عورت ( قاتل) سے۔مگر جس ( قاتل) کواس کے بھائی کی طرف سے کچھ ( تاوان لیکر ) معاف کر دیا جائے تو ( مقتولوں کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے۔اور ( قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان ) اس کوادا کرنا ( واجب) ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔پھر جو شخص اس (حکم) کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ( مقدر ) ہے۔قرآن کریم کے یہ وہ ارشادات اور احکامات ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم بدلہ لینے میں حد سے تجاوز کرو۔بلکہ یہی حکم دیتا ہے کہ جس قدر دوسرے نے زیادتی کی ہے اسی قدر ہی تم اس سے بدلہ لے سکتے ہو اور زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ( البقرہ آیت ۱۹۱۔المائدہ آیت ۸۸ یعنی۔اور ( مقررہ ) حدود سے آگے نہ نکلو۔اللہ (مقررہ) حدود سے آگے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حدیں مقرر فرما دی ہیں ان سے آگے نکلنا خدا تعالیٰ کی نار اهنگی کو مول لینے والی بات ہے۔ایک آدمی قلم سے کام لیتا ہے تو دوسرے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کے مقابلہ کے لئے تلوار اٹھالے ایک آدمی زبان سے کام لیتا ہے تو دوسرے کا یہ کام نہیں