اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 70
70 سے جاملا اور ان کو بتایا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا میں سب سے ؟ ( بحوالہ بخاری کتاب المغاری باب غزوہ ذات الرقاع ) اب دیکھیں دنیا کے ہر قانون کے مطابق قاتلانہ حملہ کرنے والوں کی سزا موت ہے مگر سیدنا محمد مصطفی علی نے ایسے سنگین جرم کے ارتکاب کرنے والے گستاخ کو بھی معاف فرمایا اور کوئی بھی سزا نہ دیکر کر ایک مثال اور نمونہ قائم فرما دیا۔عہد رسول خدا سلام میں بڑے بڑے گستاخان رسول میں سے ایک شخص تمامه بن أقال تھا۔یہ شخص یمامہ کا رہنے والا تھا۔قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک با اثر رئیس تھا۔ہمیشہ بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے درپے رہتا تھا۔ایک دفعہ مسلمان اُس کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔نبی کریم نے اس زمانہ کے رواج کے مطابق مسجد نبوی کے صحن میں ہی کسی ستون کے ساتھ باندھ کر قید کر دیا۔آنحضرت صلا لا علم ہر روز صبح کے وقت شمامہ کے قریب تشریف لے جاتے۔اور حال پوچھ کر در یافت فرماتے کہ عمامہ بتاؤ اب کیا ارادہ ہے؟ شمامہ جواب دیتا، اے محمد ! ( م ) اگر آپ مجھے قتل کر دیتے تو آپ کو اس کا حق ہے کیوں کہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپ احسان کریں تو آپ مجھے شکر گزار پائیں گے اگر آپ فدیہ لینا چاہیں تو میں فدیہ دینے کے لئے بھی تیار ہوں، تین دن تک یہی سوال جواب ہوتا رہا۔آخر تیسرے دن آنحضرت علیا لیلی نے از خود صحابہ رضی اللہ سے ارشاد فرمایا کہ شمامہ کو کھول کر آزاد کر دو“ صحابہ رضی اللہ نظم نے فورا آزاد کر دیا اور شمامہ جلدی جلدی مسجد سے نکل کر باہر چلا گیا۔صحابہ یہ سمجھے ہوں گے کہ اب وہ اپنے وطن کی طرف واپس لوٹ جائیگا۔مگر آنحضرت میں اسلام سمجھ چکے تھے کہ شمامہ کا دل مفتوح ہو چکا ہے۔چنانچہ وہ ایک قریب کے باغ میں گیا اور وہاں سے نہا دھو کر