اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 69 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 69

69 انہیں ان کی گستاخیوں کے باوجود ہلاک نہ کیا جائے ، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کے اصلاب یعنی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔یہ ہے آنحضرت صل الم کا اسوہ اور دنیا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوموں کو اور ان کی نسلوں کو ھدایت نصیب کی اور وہ لوگ خدائے واحد کے پرستار ہو گئے حضرت نبی کریم عالم کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کئے ہوئے ساتواں سال گزر رہا تھا کہ جمادی الثانی ہجری بمطابق اکتوبر نومبر 628 میں آپ کو اطلاع ملی کہ بمقام نجد میں قبیلہ عطفان اور بنو ثعلبہ مسلمانوں پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں۔آپ چند سوصحابہ کے ساتھ اس کے ممکنہ حملہ کو روکنے کے لئے نجد کی طرف روانہ ہو گئے۔قبیلہ عطفان والے ڈر گئے اور راہِ فرار اختیار کی۔جب نبی کریم مدینہ کی طرف واپس لوٹ رہے تھے تو راستے میں آپ ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لئے ٹھہر گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔صحابہ کرام بھی آرام کرنے کے لئے مختلف درختوں کے سایہ میں آرام کرنے لگے۔اسی حالت میں ایک دشمن آیا اور نبی کریم علیم کی تلوار ہاتھ میں پکڑ کر آپ کو نیند سے جگایا اور پوچھا مَن يَمنَعُكَ میلی مجھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم بیلا نے جواب دیا اللہ۔یہ سنتا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔حضور علی نے تلوار اٹھائی اور اس گستاخ دشمن سے پوچھا اب مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے۔اس پر وہ ڈر کر کہنے لگا آپ ہی ہیں جو مجھ پر رحم کریں۔آپ نے اس سے پوچھا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالی کارسول ہوں۔اس گستاخ رحمن نے جواب دیا نہیں لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کبھی نہیں لڑونگا۔رحمتہ اللعالمین نے اس بڑے گستاخ ودشمن کو آزاد کر دیا۔وہ اپنے ساتھیوں