اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 68 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 68

68 اور گستاخیوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا تو آپ نے تبلیغ اسلام کے لئے طائف جانے کا فیصلہ فرمایا یہ مقام مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلہ پر تھا۔چنانچہ مئی یا جون 19 کو آپ وہاں تشریف لے گئے اور دس دن قیام فرمایا۔اہل طائف نے بھی انتہائی گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔وہاں کے رئیس عبدیالیل ( یا ابن عبدیالیل ) نے شہر کے آوارہ آدمی آپ کے پیچھے لگادئیے۔جب آنحضرت علی کی شہر سے نکلے تو ان گستاخ اور شر پسندلوگوں نے آپ پر اتنا پتھراؤ کیا کہ آپ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا۔تین میل تک یہ لوگ آپ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھر برساتے چلے آئے۔ایک دفعہ رسول کریم ملایا لیلی نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ سے فرمایا عائشہ تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔اور پھر آپ نے سفر طائف کے حالات سنائے اور فرمایا کہ اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا يا محمد۔۔۔۔۔إِنْ شِئْتَ أنْ أطبقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ ( بخاری کتاب ، بدء الخلق باب اذا قال احد کم امین اے محمد اگر آپ چاہیں تو میں اس انشین کے دو پہاڑوں سے ان لوگوں کو کچل دوں۔اگر اسلام میں ایسی گستاخی کی سزا قتل اور ہلاکت ہوتی اور رسول کریم علی کی اہل طائف کو سزا دلوا نا یا بلاک کروانا چاہتے تو فورا جواب دیتے ہاں انہیں کچل کر رکھ دیا جائے ان کی گستاخیاں معافی کے قابل نہیں۔مگر اس کربناک حالت میں بھی رحمۃ اللعالمین حضرت اقدس محمد مصطف عالم نے پہاڑوں کے فرشتوں کو جواب دیا کہ * بل ارجُوا أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصلَا بِهِم مَن يعْبُدُ الله وحده لا يُغيرك به شيئًا