اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 67 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 67

67 کا اشد ترین دشمن گالیاں دیتا رہا۔آنحضرت بلا یہ خاموش رہے آپ نے کبھی بھی اس سے بدلہ نہ لیا دوسری طرف اس مظلومانہ خاموشی کے باعث حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو ایک صحابی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول کریم لالایی کعبہ کے قریب کھڑے نما زادا کر رہے تھے اور کفار قریش کا ایک گروہ قریب ہی مجلس لگائے ہوئے بیٹھا تھا ان میں سے کسی نے کہا کہ کوئی ہے جو گند اور گوبر سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجھری اس محمد کے دونوں کندھوں کے درمیان اس وقت رکھ دے جب کہ وہ سجدہ میں ہو۔ایک کا فرظالم گیا اور او جھری لے آیا اور آپ کے کندھوں پر رکھ دی۔ہمارے آقا سجدے کی حالت میں ہی پڑے رہے اور کفار مکہ ہنسنے لگے۔ہنسی کے مارے وہ ایک دوسرے پر جھک جھک جاتے تھے۔یہ منظر دیکھ کر کسی نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو خبر دی۔وہ بھاگتی ہوئی آئیں۔اور اس اوجھری کو آپ کے کندھوں سے ہٹایا۔جب رسول کریم نماز مکمل کر چکے تو فرما اللهم عليك بقريش اللهم عليك بقريش: اے اللہ تو ہی قریش سے سمجھ اے اللہ تو ہی قریش سے سمجھ۔پھر آپ نے نام لیا ، اے اللہ ! عمر بن ہشام ، عتبہ بن ربیع ، شیبہ بن ربیع ، ولید بن عتبہ، امیہ بن حلف اور عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید سے سمجھ۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کی اللہ کی قسم میں نے خود ان سب کو بدر کے میدان میں مقتول پایا۔پھر ان کو بدر کے میدان میں ایک گڑھا کھود کر گھسیٹ کر پھینکا گیا۔پھر رسول کریم علیم نے فرمایا کہ کنویں والے لعنت کے نیچے ہیں۔( صحیح بخاری کتاب الصلاة باب المراة تطرح عن المصلّى) جب آنحضرت علیم کی بعثت مبارکہ پر دس سال گزر گئے اور مکہ والوں کی مخالفت