اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 66
66 باتیں سنتے اور خاموش رہتے اور صبر کرتے۔کفار مکہ کے گستاخ رویے کی تفصیل کے لئے ہے ہے شمار واقعات میں سے صرف دو بیان کرتا ہوں۔تاریخ اسلام اور سیرت کی کتب میں ذکر کہ سیدنا حضرت محمد مصطف علی کی ایک دن مکہ میں خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے۔اس دوران وہاں سے ابو جہل گزر رہا تھا۔اس نے حضور صلیم کو بلا وجہ گالیاں دینی شروع کر دیں۔وہ گالیاں دیتارہا اور حضور علی خاموشی سے سنتے رہے۔کسی قسم کے رڈ عمل کا اظہار نہیں فرمایا۔حضرت حمزہ کی ایک لونڈی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔رسول کریم علی ایم کی مظلومیت اور خاموشی سے بہت متاثر ہوئی۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جب جنگل سے شکار کھیل کر واپس آئے تو اس لونڈی نے حضرت حمزہ کو کہا کہ آپ کے بھتیجے کو ابو جہل نے بہت گالیاں دیں اور حضرت محمد مصطفے عمل کے سامنے سے بالکل خاموش رہے۔حضرت حمزہ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے۔جب حضرت حمزہ نے یہ واقعہ سنا اسی وقت سید ھے خانہ کعبہ کی طرف گئے وہاں ابوجہل بیٹھا تھا۔آپ نے اسکے سر پر کمان ماری اور ابو جہل کو مخاطب کر کے کہا کہ میں ابھی محمد ام کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں تم نے صبح صبح اسے بلاوجہ گالیاں کیوں دیں؟ کیا اس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا؟ اگر بہادر ہو تو اب میری مار کا جواب دو۔ابوجہل نے اس خیال سے کہ اگرلڑائی شروع ہو گئی تو اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اس لئے مصلحت سے کام لیتے ہوئے ان سے کہا کہ چلو جانے دوز یادتی میری طرف سے ہوئی تھی میں نے آپ کے بھتیجے کو بہت گالیاں دیں۔) سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 311) اگر غور کیا جائے تو اس واقعہ میں عصر حاضر کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نصیحت ہے۔اسلام