اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 57 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 57

57 حق آزادی رائے اس سلسلہ میں بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ اس کا بنیادی حق ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کو اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے۔اور ہر مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور ہر حکومت اور ہر ملک بھی آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔لیکن جائزہ لینے والی یہ بات ہے کہ آزادی رائے کا حق کس حد تک ہے اور کس حد کے بعد حکومت اپنا بھی حق سمجھتی ہے۔؟ دوسری بات یہ بھی دیکھنی ہوگی کہ آزادی رائے کو بنیاد بنا کر اگر کوئی کسی کے پیارے کی یا کسی کی مقدس کتاب کی تحریری طور پر یا تقریری طور پر یا عملی طور پر توہین کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے بدلہ کسی صورت میں اور کس حد تک لیا جا سکتا ہے۔؟ تیسری بات یہ بھی دیکھنے والی ہے کہ آزادی رائے کی بات کرنے والے اپنے بارے میں تو اس حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جب دوسرا بھی اس حق کو اپنے لئے استعمال کرنا چاہے تو اس پر کس حد تک پابندی لگانے کا حق حاصل ہے؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔اور یہ حق اسے ہر مذہب اور ہر حکومت دیتی ہے۔اگر اس حق پر پابندی لگادی جائے تو کوئی بھی ملک و قوم ترقی نہیں کرسکتی۔اور یہی حال مذہب کا بھی ہے دیکھا یہ جاتا ہے کہ لوگ سیاست میں رہن سہن، ثقافت، تجارت، صنعت و حرفت الغرض دنیا داری کے ہر معاملہ میں آزادی رائے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے پوری طرح اتفاق رائے اور اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں۔لیکن جیسے ہی مذہب کا معاملہ آتا ہے توسب کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں اور وہاں آرائی کرائے پر تبررکھ دی جاتی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جاتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر معاملہ میں آزادی رائے کا ہر شخص کو حق حاصل ہے تو پھر مذہب کے معاملہ میں یہ حق