اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 354
354 ایک ہزار روپیہ انعام دونگا۔اور اگروہ قسم اٹھالے اور اس کے قسم اٹھانے کے ایک سال کے اندراندرا گریہ شخص بلاک نہ ہو گیا تو میں جھوٹا ہوں۔پھر آپ نے یہ بات بھی بیان فرمائی کہ اگر شخص قسم نہیں بھی کھائے گا تو چونکہ یہ حق پوشی کر ر ہا ہے اس لئے بھی یہ شخص ایک سال کے اندر اندر بلاک ہو جائے گا۔اس پر دنیا والوں نے دیکھا کہ یہ گستاخ رسول شخص اس اعلان کے ایک سال کے اندر اندر اس جہان سے رخصت ہو گیا۔اس طرح یہ شخص اسلام اور حضرت محمد مصطفے عالم کی داقت پر مہر ثبت کر گیا۔اس سلسلہ میں پوری وضاحت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تین مستقل نوعیت کی کتب تصنیف فرمائیں جو کہ ضیاء الحق ، انوار السلام اور انجام آتھم کے نام سے موجود ہیں۔جن میں اس گستاخ رسول کی ساری گستاخیوں کا جواب اور اس کے انجام کی تفصیل موجود ہے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سراج الدین عیسائی کی طرف سے اٹھائے گئے چارسوالوں کے جواب بھی تصنیف فرمائے۔اس سلسلہ میں سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کے نام سے کتاب تصنیف فرمائی۔اسی طرح ایک کتاب امہات المومنین کے نام سے ایک بد زبان کشمیری مرتد احمد شاہ شائق نے جو عیسائی ہو چکا تھا شائع کی۔اس کتاب میں آنحضرت میلہ اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کو اتنی گالیاں دی گئی تھیں کہ اسے پڑھ کر مسلمانان ہند کے جگر چھلنی اور دل پارہ پارہ ہو گئے۔اور پورے ہندوستان میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی ( اس کا پہلے بھی کچھ ذکر کیا جا چکا ہے ) اس کتاب کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”البلاغ “ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں ان کے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔اسی کتاب میں آپ نے ایک جامع سکیم بھی پیش فرمائی اور مسلمانوں سے اس سلسلہ میں اپیل