اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 353 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 353

353 جیسا کہ لکھا جا چکا ہے کہ عیسائی پادری ہر طرف گھوم گھوم کر عیسائیت کی تبلیغ کرتے اور مسلمانوں کو مناظروں کا چیلنج کرتے تھے۔ایسا ہی جنڈیالہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا اور عیسائیوں نے انہیں مناظرہ کی دعوت دی جس پر جنڈیالہ کے مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور درخواست کی کہ آپ یہ مناظرہ کریں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند آدمیوں کو مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے ان کے ساتھ امرتسر روانہ کیا۔اس پر عبد اللہ آتھم کے ساتھ مناظرہ ہونا طے پایا۔یہ ناظرہ جو کہ اسلام اور عیسائیت کے مابین ہوا امرتسر میں پندرہ یوم تک چلا جو کی کتابی صورت میں بھی ”جنگ مقدس“ کے نام سے شائع شدہ ہے۔اس مناظرہ کے دوران عبد اللہ آتھم نے گستاخی کرتے ہوئے آنحضرت ملا سلیم کو نعوذ باللہ دجال کہا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی مناظرہ میں فرمایا کہ عبداللہ آتھم نے ہمارے پیارے رسول میں اسلام کو دجال کہا ہے اگر شخص حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا تو پندرہ ماہ کے اندر اندر حاویہ میں گرایا جائے گا۔اس پر عبد اللہ آتھم نے اس وقت اپنی زبان باہر نکالی اور کان پکڑے۔گویا کہ توبہ کی، اُس کی اِس تو بہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دی۔اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی اس مہلت پر مخالفین کی طرف سے یہ بات اٹھائی گئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی نعوذ باللہ جھوٹی نکلی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ وضاحت بیان فرمائی کہ چونکہ عبداللہ تم نے حق کی طرف رجوع کیا تھا اس لئے اسے یہ مہلت ملی ہے اور اس عرصہ میں بھی عبد اللہ آتھم اسلام اور آنحضرت علم کی گستاخی کرنے سے باز بھی رہا ہے۔جب لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا تو آپ نے یہ علان فرمایا کہ عبد اللہ آتھم کو کہو کہ وہ قسم کھائے کہ اس پر اس پیشگوئی کی ہیبت طاری ہوئی تھی اور اس نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا تھا اور تثلیث کے عقیدہ سے ذرہ بھی متزلزل نہیں ہوا تھا تو میں اسے