اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 336 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 336

336 زبانی کو دیکھ کر اور ان کی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے ویدوں کا براہین احمدیہ میں کیا تھا مگر ہم نے اس کتاب میں بجز واقعی امر کے جو دیدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتا تھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیانند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیا لال نے اپنی تالیفات میں جس قدر بدزبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہونگی۔خاص کر دیا نند نے ستیارتھ پرکاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہوسکتا ہے جس کو نہ خدا کا خوف ہو اور نہ عقل ہو نہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہو غرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعد ازاں ہم باوجود یکہ رام وغیرہ نے اپنی ناپاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی۔بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق جن کی تالیف پر نو برس گزر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے۔چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلی دھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیار پور کمال اسرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمه چشم آر یہ در حقیقت اس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلی دھر کے مارچ1886ء میں ہوا۔پھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چودا برس سے آج تک یا اگر ہوشیار پور کے مباحثہ سے بات کرو تو نو برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخبار میں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کاروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلو حد سے زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا۔ہمارے بعض اندھے مولوی جوہر