اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 271
271 کسی ایک شخص نے اس کا قتل کیا بھی ہے تو یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ توہین کرنے ہی کی وجہ سے اس کا قتل کیا گیا ہے؟ اس کی طرف منصوب ہونے والے باقی جرائم تو اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں جس کو واقدی خود بیان کر رہا ہے کہ لوگوں کو رسول کریم ملی کی عداوت پر بھڑ کاتا تھا۔اور بغاوت پر اتر آیا تھا۔اسی طرح ابن اسحق نے کہا غزوہ سالم بن عمیر ابو عفک کے قتل کے لئے ہوا ابو عفک بنو عمر و ابن عوف کا ایک آدمی تھا اور بنو عمیر بن عوف بنی عبید کی شاخ ہے۔ابو عفک کا نفاق اس وقت ابھرا جب رسول اللہ صلیم نے حارث بن سوید بن صامت کو قتل کیا۔اور حارث بن شوید کو اس لئے قتل کیا گیا تھا کہ یہ جنگ احد میں مسلمانوں کے ساتھ نکلا تھا جب جنگ شروع ہوئی تو یہ مجذر بن زیا دبلوی اور بہنوضبیعہ کے ایک شخص قیس بن زید پرٹوٹ پڑا اور دونوں کا کام تمام کر دیا پھر مکہ پہنچ کر قریشیوں سے مل گیا ( ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۷۲ (۷۸۰) یہ قتل کے بدلہ میں قتل تھا۔اب جو شخص معاہد ہو کر عہد شکنی کرے اور بغاوت پر بھی اتر آئے تو ایسے شخص کو آج کل بھی حکومتیں سزائے موت ہی سناتی ہیں۔اکثر ملکوں میں آج بھی باغیوں کے سر قلم کر دئے جاتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں مانا جاسکتا کہ کوئی بھی قتل صرف تو ہین رسالت کی وجہ سے کیا گیا ہو کیونکہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔