اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 270
270 ۵ - الصارم المسلول علی شاتم الرسول کے مصنف نے ایک واقعہ اس طرح سے پیش کیا ہے واقدی نے بطریق سعید بن محمد از عمارہ بن غزیہ واز مصعب اسماعیل بن مصعب بن اسماعیل بن زید بن ثابت اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے ، دونوں کہتے ہیں کہ بنوعمر و بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔وہ نہایت بوڑھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی شخص مدینہ آکر لوگوں کو رسول کریم اللہ کی بغاوت پر بھڑ کا یا کرتا تھا۔اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔جب رسول کریم علی کیم بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا۔اس نے رسول کریم علیم اور صحابہ کی مذمت میں ایک تو بین والا قصیدہ کہا۔سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔سالم موقعہ کی تلاش میں تھا، موسم گرما کی ایک رات تھی ، ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سور ہا تھا، اندریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی ، دشمن خدا بستر پر چیخنے لگا۔اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے ، پہلے اسے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا۔کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا! اگر ہمیں قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔( بحواله المغازى للواقدی ۱/ ۱۷۴ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۶۸) اول یہ کہ واقدی اس واقعہ کو بیان کرنے والے ہیں اس لئے ان کی یہ روایت قابل اعتبار ہی نہیں۔دوسرے یہ کہ اسلام کسی بھی قوم کے بوڑھے شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا، چاہے بوڑھا شخص میدان جنگ ہی میں کیوں نہ ہو۔تیسرے یہ کہ اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ