اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 253
253 زیادتی ہے کہ اسے صرف ہجو کرنے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔جہاں تک اس کی طرف سے ہونے والی بچو کی بات ہے تو جب بھی شخص اپنے اشعار میں آنحضرت بی یا اسلام کی ہجو کرتا تو رض اس کے ہجو کا جواب آنحضرت میال لا علم حضرت حسان کے ذریعہ اشعار ہی میں دلوایا کرتے تھے۔ایسا کوئی ثبوت کسی جگہ سے پیش نہیں کیا جا سکتا کہ رسول کریم بالا میں نے اس شخص کو صرف ہجو کرنے کے جرم میں قتل کرنے کا ارشاد فرمایا ہو۔جہاں تک ایذارسانی کی بات ہے تو اس کے یہ تمام عمل ہی ایذارسانی پر منتج تھے جس کی اسے سزا دی گئی۔اس جگہ سیرت خاتم النبیین سے بھی ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے جسے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مضبوط حوالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی اور کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دیدیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیض و غضب سے بھر گیا۔اور فور اسفر کی تیاری کر کے اس نے مکہ کی راہ لی اور وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا۔اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دیاور ان کے سینے جذبات انتقام وعداوت سے بھر دئے۔(ابوداؤد کتاب الخراج نیز ابن ہشام وابن سعد ) اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجل پیدا ہو گئی تو اسنے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے تمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانٹی اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے، اس وقت تک چین نہ لیں گے۔( فتح الباری جلد کے صفحہ ۲۵۹) مکہ میں یہ آتش فشاں پیدا کر کے اس بدبخت نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور قوم بقوم پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا۔( زرقانی جلد ۲ صفحہ ۹ ) اور پھر مدینہ واپس