اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 252
252 ا۔اس نے قریش کے مقتولوں پر مرثیہ کہا۔۲۔قریش کو رسول کریم ملی ایم کے خلاف اُبھارا اور ان کی پشت پناہی کی۔۳۔اس نے قریش سے کہا کہ تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے۔۴۔اس نے رسول کریم صلی علیم اور مسلمانوں کی ہجو کہی۔الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۳۹ - ۱۴۰ ) 66 یہ تو وہ جرائم ہیں جن کا صاحب کتاب نے خود اعتراف کیا ہے اس کے علاوہ اور بھی جرائم تھے اس میں سب سے بڑا جرم تو وہ بنتا ہے جو اس نے رسول کریم عالی لیلی کے نعوذ باللہ قتل کرنے کی سازش کی تھی جس کا حوالہ پیچھے گزر چکا ہے۔پھر اس کا یہ جرم تھا کہ اس نے اس معاھدہ کو توڑا تھا جو اس نے اور اس کی قوم نے رسول کریم علیم کے ساتھ کیا تھا۔پھر اس کا ایک بہت بڑا جرم یہ بنتا ہے جو اس نے مخالفین اسلام کو آنحضرت معاللہ ہیں اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے اُبھارا جس سے وہ خود حر بی ٹھہرا۔امام ابن تیمیہ نے خود بھی لکھا ہے کہ اس لئے کہ ذمی اگر حربی کافروں کے لئے جاسوسی کرے، انہیں مسلمانوں کی نقائص سے آگاہ کرے اور کفار کو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے پر اُبھارے تو ہمارے نزدیک اس کا عہد ٹوٹ جائے گا“ (صفحہ ۱۴۳) پھر اس کا جرم جو بہت بڑا کہلاتا ہے وہ فتنہ پردازی تھا۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرہ آیت ۱۹۲) یعنی اور فتنہ پردازی قتل سے بھی زیادہ سخت (خطرناک) ہوا کرتی ہے۔اسی طرح ایک جگہ فرماتا ہے۔وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ( البقره آیت (۲۱۸) یعنی فتنہ قتل سے بھی بڑا ہوتا ہے۔یہ وہ سارے جرائم تھے جس بنا پر یہ شخص فتنہ پرداز اور حربی کہلایا تو اسے قتل کرنے کا فیصلہ فرمایا۔قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق تو اس کا قتل اس کے فتنہ سے کم تر تھا۔یہ کہنا بالکل غلط اور سراسر