اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 242
242 کے ساتھ انہوں نے جو معاہدہ کیا ہوا تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔(السیر والمغازی لابن اسحاق صفحه ۳۱۴) یہ مقتول عورت جس کو نا بینے آدمی نے قتل کیا تھا، قینقاع کے قبیلہ سے تھی کیونکہ یہ واقعہ مدینہ میں پیش آیا۔بہر حال اس عورت کا تعلق قبیلہ قینقاع سے ہو یا کسی اور قبیلہ سے وہ ذمّی عورت تھی ، اس لئے کہ مدینہ کے سب یہودی ذقی تھے۔یہ یہودیوں کی تین قسمیں تھیں اور وہ 66 سب کے سب ذقی تھے۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۲۳) او پر پیش کئے گئے حوالوں کو دکھنے سے چند امور سامنے آتے ہیں جو کہ بڑے غور طلب ہیں مثلاً ایک بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ جود و واقعات الگ الگ روایات اور اختلافی عمل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں محققین کا یہ کہنا ہے کہ در اصل یہ ایک ہی واقعہ ہے جنہیں دوروایات میں اختلاف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس واقعہ سے جو نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے وہ درست نہیں مانا جاسکتا کہ ہر ایسے شخص کو قتل کیا جاسکتا ہے جو گالی دے۔کیونکہ گالی دینے کے جرم میں کسی کو قتل کرنے کا جواز اور حکم ان روایات میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔کیونکہ اس واقعہ میں ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی کہ آنحضرت علی ایم نے اس قتل کو گالی دینے کے بدلہ میں درست عمل قرار دیا ہو۔اگر گالی کے بدلہ میں قتل کو جائز قرار دیا جائے تو یہ قرآنی تعلیم اور انصاف کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ واضح حکم ہے کہ تمہیں بدلہ لینے کا اسی قدر حق ہے جس قدر تم سے زیادتی کی گئی ہو۔" 66 دوسری بات جو ان روایات میں ہمیں دیکھنے کوملتی ہے وہ یہ ہے کہ اس عورت کے گالیاں دینے کے جرم میں اسے قتل کرنے کا کسی کو کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔بلکہ یہاس نا بینا شخص کا اپنا