اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 241
241 نے جن لوگوں کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا یا پھر قتل ہونے پر ان کا معاملہ آنحضرت علیم کے سامنے پیش ہوا اور آپ مال لیلی نے ان کے خون کو رائیگاں اور بدد کرار د یاوہ دراصل اس معاہدہ کے توڑنے کے مجرم تھے۔اور یہ عورت جس کے بارے میں اور ذکر کیا گیا ہے اس کا بھی تعلق اس قبیلہ سے تھا جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا۔امام ابن تیمیہ خود تحریر فرماتے ہیں کہ ابن اسحاق نے بطریق عاصم بن عمر بن قتادہ روایت کیا ہے کہ بنو قینقاع کے قبیلہ نے یہود میں سے سب سے پہلے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔انہوں نے غزوہ بدر اور احد کے درمیان مسلمانوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا، چنانچہ رسول کریم ملایم نے ان کا محاصرہ کیا اور یہ آپ کے حکم کے مطابق قلعوں سے اتر آئے۔جب آپ علیہ نے ان پر قابو پالیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی نے رسول کریم علیم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہا اے محمد الا اللہ میرے حلیفوں پر مہربانی کیجئے ، آپ مال لیلی نے اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا ،اس نے اپنا ہاتھ رسول کریم علی ایل کے گریبان کے اندر داخل کیا ، رسول اکرم علی نے فرمایا مجھے چھوڑ دو، آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ چہرے سے ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے۔آپ میم نے فرمایا * " تجھ پر افسوس ! مجھے چھوڑ دو۔‘اس نے کہا میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک آپ میرے حلیفوں پر مہر بانی نہ فرمائیں گے۔چارسو ( ۴۰۰) کھلے جسم کے جوان اور تین سو (۳۰۰) زرہ پوش ، جنھوں نے مجھے سرخ و سیاہ سے بچایا تھا ، آپ انہیں ایک ہی صبح میں کاٹ کر رکھ دیں گے! بخدا ! میں زمانے کی گردشوں کا خطرہ محسوس کر رہا ہوں۔رسول اکرم علیم نے فرمایا ”میں نے ان کو تمہاری خاطر آزاد کیا۔“ باقی رہے بنو نظیر اور بنوقریظہ کے قبائل تو وہ مدینہ سے باہر رہتے تھے اور رسول کریم ملایم