اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 243
243 ذاتی فعل تھا جسے اس نے خاموشی سے کیا تھا اور کان و کان بھی کسی کو اس کی خبر تھی۔اگر کسی کو بھی اس کی خبر ہوتی تو وہ پہلے ہی رسول کریم علی ایم کو بتادیتا۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت بیل تعلیم نے کسی شخص کو بھی ایسا کرنے کے لئے کوئی حکم صادر نہیں فرمایا تھا۔اگر آپ علی نے کوئی حکم صادر فرمایا ہوتا تو آپ اس طور پر دریافت نہ فرماتے۔آپ کا اس طور سے دریافت فرمانا اس لئے تھا کہ تا آپ صلیم کو علم ہو سکے کہ اس عورت کو کس نے اور کس بنا پر قتل کیا ہے۔جہاں تک اس خون کو بدد قرار دینے کی بات ہے تو اس کی اور وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ا۔سب سے اول یہ کہ یہود نے جو معاہدہ رسول کریم ملایم کے ساتھ کیا تھا اس معاہدہ کو سب سے پہلے توڑنے والا وہی قبیلہ تھا جس قبیلہ سے اس عورت کا تعلق تھا۔اور امام ابن تیمیہ خود ہی اپنی کتاب میں یہ لکھ چکے ہیں کہ اگر کوئی معاہد عہد توڑ دے کو وہ حربی ہو جاتا ہے۔اور یہ عورت معاہدہ توڑنے والوں میں شامل تھی۔۲۔اس عورت کا قتل تو ہوا تھا لیکن کوئی ایسی شہادت موجود نہیں ہے کہ کسی نے اس قتل کی دیت کا مطالبہ کیا ہو۔اگر دیت کا مطالبہ ہوتا بھی تب بھی دیت دینے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہ عورت معاہدہ توڑ کر پہلے ہی حربی بن چکی تھی۔۳۔تیسری بات یہ ہے کہ اس نا بینا شخص کی بیوی بھی تھی۔جس سے اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔عورت کو قتل کرنے کا فعل اس نابینا شخص کا اپنا ذاتی فعل تھا۔قتل کی یا تو دیت ادا ہوتی یا خون بہا جس کا کوئی دعویدار نہ تھا۔اس کا کسی نے کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔اس لئے اس قتل کو ہد دقراردیا گیا۔۴۔پھر اس کو بدد قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ اس شخص کے اس عورت