اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 240 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 240

240 ۵۳۔خداس شخص کا حامی ہے جو عبدوا قرار میں وفاشعار اور پر ہیز گار اور اللہ کے رسول محمد لام ) بھی اس کے حامی ہیں۔“ ( سیرت النبی کامل ابن ہشام جلد اول صفحه ۵۵۴ تا ۶۱ ۵ مطبوعه اعتقاد پبلشنگ ہاؤس سوتی والان دہلی۔سن اشاعت ۱۹۸۲) قارئین ! یادر ہے کہ میں نے اس معاہدہ کا پور امتن اس جگہ درج کر دیا ہے۔اس معاہدہ کا ان لوگوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں تو بین رسالت کے جرم میں قتل کیا گیا تھا۔حالانکہ اس معاہدہ میں اس بات کو بڑی وضاحت سے درج کیا گیا تھا کہ اور متقی اور ایماندار ہر اس شخص کی مخالفت پر کمر بستہ رہیں گے جو ان میں سے سرکشی کرے جو ظلم یا گناہ یا زیادتی کا مرتکب ہو یا ایماندارلوگوں میں فساد پھیلائے ان سب کے ہاتھ ایسے شخص کی مخالفت پر ایک ساتھ اٹھیں گے خواہ وہ ان میں سے کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔“ ری نوشتہ کسی ظال یا مجرم کے آڑے نہ آئے گا جو شخص جنگ کے لئے نکلے وہ بھی اور جو شخص گھر میں بیٹھا رہے وہ بھی امن کا مستحق ہوگا۔صرف وہ لوگ مستثنی ہوں گے جو ظلم یا جرم کے مرتکب ہو نگے“ یہود کے قبیلوں کا ذکر کیا اور لکھا کہ اور بنی نجار ثعلبہ کے یہودیوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہو نگے جو بنی عوف کے یہودیوں کو۔البتہ جوظلم اور جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی ذات یا گھرانے کے سوا کوئی مبتلائے ہلاکت و فسادنہ ہوگا۔“ اول تو سارا معاہدہ ہی قابل غور ہے تاہم جہاں یہود اور ذمیوں کو سزا دینے کی بات ہوگی تو وہاں کم از کم اب تین شقوں کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوگا۔اگر غور کیا جائے تو آنحضرت علیم