اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 239
239 ۴۴۔پناہ گزین سے ویسے ہی برتاؤ ہوگا جیسا کہ اصل شخص پناہ دہندہ سے ہو رہا ہو۔نہ اسے کوئی نقصان پہنچایا جائے اور نہ وہ کسی جرم کا مرتکب ہوگا۔۴۵۔کسی عورت کو اس کے کنبے والوں کی اجازت کے بغیر پناہ نہ دی جائے گی۔۴۶۔اس نوشتے کو قبول کرنے والوں کے درمیان کوئی نیا معاملہ یا جھگڑا پیدا ہوجس پرفساد رونما ہونے کا ڈر ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کے رسول محمد ( ل ل لم ) کی طرف لوٹایا جائے گا۔اس نوشتے میں جو کچھ ہے، اللہ تعالیٰ کو اس پر زیادہ سے زیادہ احتیاط اور وفاداری پسند ہے۔۴۷۔نہ قریش کو پناہ دی جائے گی اور نہ اس شخص کو جو ان کا معاون ہو۔۴۸۔اگر کوئی میثرب پر حملہ آور ہو تو ان ( معاہد فریقوں یعنی یہودیوں اور مسلمانوں پر ) ایک دوسرے کی امدا د ونصرت لازم ہوگی۔۔اگر انہیں صلح کر لینے اور اس میں شرکت کرنے کی دعوت دی جائے گی تو یہ اسے قبول کرلیں گے اور شریک ہونگے اسی طرح جب وہ کسی کو صلح کے لئے بلائیں گے تو اسے قبول کریں گے اور مسلمانوں پر بھی قبول کر لینا لازم ہوگا بجز اس صورت کے کہ کوئی دینی جنگ کرے۔۵۰۔ہر شخص کے حصے میں اسی کی مدافعت آئے گی جو اس کے بالمقابل ہوگا۔۵۱۔اور اوس کے یہودیوں کو اصل ہوں یا موالی وہی حقوق حاصل ہونگے جو اس نوشتے کے ماننے والوں کو حاصل ہیں۔۵۲۔یہ نوشتہ کسی ظال یا مجرم کے آڑے نہ آئے گا جو شخص جنگ کے لئے نکلے وہ بھی اور جو شخص گھر میں بیٹھار ہے وہ بھی امن کا مستحق ہوگا۔صرف وہ لوگ مستعفی ہوں گے جو ظلم یا جرم کے مرتکب ہو نگے۔